سنن نسائی حدیث ۲۴۶۸ - زکاۃ فقراء مہاجرین کے لیے
زکاۃ فقراء مہاجرین تک پہنچانے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۴۶۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۶۸
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : كِدْتُ أُقْتَلُ بَعْدَكَ فِي عَنَاقٍ أَوْ شَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنَّهَا تُعْطَى فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ مَا أَخَذْتُهَا " .
عبداللہ بن ہلال ثقفی روایت:
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: (لوگ اتنے جھگڑالو اور نادہند ہو گئے ہیں کہ) قریب ہے کہ میں آپ کے بعد زکاۃ کی بکری کے ایک بچے یا ایک بکری کے لیے قتل کر دیا جاؤں گا، تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ فقراء مہاجرین کو نہ دی جاتی ہوتی تو اسے میں نہ لیتا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ قریب ہے کہ زکاۃ کی ایک بکری یا بکری کے بچے کے معاملے میں وہ قتل کر دیا جائے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ فقراء مہاجرین کو نہ دی جاتی تو میں اسے نہ لیتا۔ اس حدیث میں زکاۃ کے مقصد کی طرف صاف اشارہ ہے۔ زکاۃ لینے کا مقصد مال جمع کرنا نہیں، بلکہ ضرورت مندوں تک حق پہنچانا ہے۔ فقراء مہاجرین کا ذکر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ زکاۃ کمزور اور محتاج طبقے کی مدد کے لیے ہے۔ زکاۃ کا مقصد، فقراء کی مدد اور صدقہ واجب جیسے موضوعات اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکاۃ کا اہم مقصد محتاج لوگوں تک مال پہنچانا ہے۔
- مالی حق کے معاملے میں جھگڑا خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔
- زکاۃ لینے کا عمل ذاتی فائدے کے لیے نہیں تھا۔
- فقراء کی ضرورت کو سامنے رکھ کر زکاۃ کی اہمیت سمجھنی چاہیے۔
