سنن نسائی حدیث ۲۴۶۹ - غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں
غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہ ہونے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۴۶۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۶۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ , وَسُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر حکم بیان فرمایا کہ مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے۔ حدیث کا اصل موضوع زکاۃ کے مال کی حد بندی ہے، یعنی ہر چیز پر زکاۃ لازم نہیں ہوتی۔ یہاں خاص طور پر غلام اور گھوڑے کا ذکر ہے کہ ان میں زکاۃ نہیں۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ زکاۃ کے احکام اندازے یا اپنی رائے سے نہیں بنائے جاتے، بلکہ نص کے مطابق سمجھے جاتے ہیں۔ غلام اور گھوڑے کی زکاۃ، کون سے مال پر زکاۃ ہے اور زکاۃ سے مستثنیٰ مال جیسے سوالات اسی حدیث سے متعلق ہیں۔ اس روایت میں حکم سادہ انداز میں بیان ہوا ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی جانی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر ملکیت پر زکاۃ لازم نہیں ہوتی۔
- غلام اور گھوڑے کو اس حدیث میں زکاۃ سے مستثنیٰ بتایا گیا ہے۔
- زکاۃ کے احکام نص کے مطابق سمجھے جائیں۔
- مالی عبادات میں اپنی رائے کے بجائے صحیح حکم معلوم کرنا چاہیے۔
