سنن نسائی حدیث ۲۴۷۱ - گھوڑے اور غلام میں صدقہ نہیں

گھوڑے اور غلام میں صدقہ نہ ہونے کا حکم

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۷۱

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام میں اور اس کے گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان پر اس کے غلام میں اور اس کے گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے۔ یہاں صدقہ سے مراد وہ واجب زکاۃ ہے جس کا حکم مال پر آتا ہے۔ حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر زکاۃ نہیں رکھی گئی۔ اس لیے زکاۃ کے احکام میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ گھوڑے کی زکاۃ، غلام کی زکاۃ، زکاۃ سے مستثنیٰ مال اور زکاۃ کے مسائل جیسے الفاظ اس روایت کے ساتھ عام طور پر تلاش کیے جاتے ہیں۔ اس حدیث سے اتنی ہی بات ثابت ہے کہ ان دو چیزوں پر زکاۃ نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غلام اور گھوڑے کے بارے میں زکاۃ نہ ہونے کا حکم آیا ہے۔
  • زکاۃ کے احکام میں ہر مال کو ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • دینی مالی مسئلہ حدیث کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔
  • مختصر حدیث بھی بڑے عملی مسئلے کو واضح کر دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں