سنن نسائی حدیث ۲۴۷۲ - گھوڑے اور مملوک پر صدقہ نہیں
آدمی کے گھوڑے اور مملوک میں زکاۃ نہیں
سنن نسائی : ۲۴۷۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۷۲
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ خُثَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمَرْءِ فِي فَرَسِهِ وَلَا فِي مَمْلُوكِهِ صَدَقَةٌ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی پر اس کے گھوڑے اور اس کے غلام میں زکاۃ نہیں ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۷۲ کا خلاصہ
اس روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ آدمی پر اس کے گھوڑے اور اس کے مملوک میں صدقہ نہیں ہے۔ مملوک سے مراد ملکیت میں موجود غلام ہے۔ حدیث کا مضمون پچھلی روایات کی طرح ہے، مگر الفاظ میں ایک فرق کے ساتھ آیا ہے۔ اس سے زکاۃ کے احکام میں ایک واضح بات ملتی ہے کہ ہر چیز جو انسان کے پاس ہو، اس پر زکاۃ لازم نہیں۔ اس حکم کو سمجھتے ہوئے انسان کو زکاۃ کے نصاب اور مال کی قسموں کے بارے میں صحیح علم حاصل کرنا چاہیے۔ گھوڑے پر زکاۃ، مملوک کی زکاۃ، زکاۃ کن چیزوں پر نہیں اور زکاۃ کا نصاب جیسے موضوعات اس حدیث کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھوڑے اور مملوک کو اس حدیث میں صدقہ سے مستثنیٰ بتایا گیا ہے۔
- زکاۃ کے احکام مال کی قسم کے مطابق ہوتے ہیں۔
- دینی حکم کو الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
- مالی عبادت میں علم کے ساتھ عمل زیادہ محفوظ ہے۔
