سنن نسائی حدیث ۲۴۷۳ - غلام اور گھوڑے کی زکاۃ کا حکم

غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہ ہونے کا واضح حکم

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۷۳

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۷۳ کا خلاصہ

یہ حدیث بھی اسی معروف حکم کو بیان کرتی ہے کہ مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے میں صدقہ نہیں ہے۔ متعدد روایات میں ایک ہی مضمون کا آنا اس مسئلے کو واضح کرتا ہے۔ زکاۃ کا تعلق صرف ملکیت سے نہیں بلکہ اس مال کی نوعیت اور شرعی حکم سے ہے۔ اس لیے کسی مال کو دیکھ کر فوراً یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس پر زکاۃ لازم ہے، جب تک نص اور حکم معلوم نہ ہو۔ اس روایت میں خاص طور پر غلام اور گھوڑے کا ذکر ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ زکاۃ کے مسائل، زکاۃ سے مستثنیٰ مال اور گھوڑے کی زکاۃ جیسے الفاظ اس حدیث کے لیے اہم تلاش کیے جانے والے موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسلمان کے غلام اور گھوڑے پر زکاۃ نہ ہونے کا حکم آیا ہے۔
  • زکاۃ کا حکم مال کی نوعیت کے حساب سے سمجھا جاتا ہے۔
  • ایک ہی حکم کا مختلف سندوں سے آنا مسئلے کو واضح کرتا ہے۔
  • مالی مسائل میں احتیاط سے بات کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں