سنن نسائی حدیث ۲۴۷۴ - غلام اور گھوڑے پر زکاۃ نہیں
مسلمان کے غلام اور گھوڑے پر زکاۃ نہیں
سنن نسائی : ۲۴۷۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۷۴
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي غُلَامِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے گھوڑے میں“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان پر اس کے غلام میں زکاۃ نہیں اور نہ ہی اس کے گھوڑے میں۔ یہ روایت پچھلی کئی روایات کے مضمون کو دوبارہ بیان کرتی ہے۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو ہر مال پر زکاۃ کا حکم ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ مال ایسے ہیں جن کے بارے میں نص میں زکاۃ نہ ہونے کا ذکر آتا ہے۔ یہاں غلام اور گھوڑے کا ذکر ہے۔ اس لیے زکاۃ سیکھنے والے کے لیے یہ حدیث بہت مفید ہے، خاص طور پر جب وہ پوچھتا ہے کہ زکاۃ کن چیزوں پر واجب ہے اور کن پر نہیں۔ گھوڑے کی زکاۃ، غلام کی زکاۃ اور زکاۃ سے مستثنیٰ مال اس روایت کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس حدیث کے مطابق غلام اور گھوڑے پر زکاۃ نہیں۔
- زکاۃ کے احکام کو عام اندازے سے نہیں سمجھنا چاہیے۔
- ایک ہی مسئلہ مختلف الفاظ سے بھی بیان ہو سکتا ہے۔
- مالی عبادات میں صحیح علم بہت ضروری ہے۔
