سنن نسائی حدیث ۲۴۷۵ - چاندی، اونٹ اور غلے کا نصاب
زکاۃ کا نصاب: چاندی، اونٹ اور غلے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۴۷۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۷۵
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ اور پانچ وسق غلے سے کم میں زکاۃ نہیں ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے نصاب کو تین چیزوں کے بارے میں صاف بیان فرمایا۔ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں، پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں، اور پانچ وسق غلے سے کم میں زکاۃ نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ ہر کم مقدار مال پر لازم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ایک مقرر حد ہے۔ اس حد کو نصاب کہا جاتا ہے۔ چاندی کا نصاب، اونٹ کا نصاب، غلے کی زکاۃ اور زکاۃ کا نصاب جیسے موضوعات اسی حدیث سے متعلق ہیں۔ اس روایت کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کی مقدار دیکھ کر سمجھ سکے کہ اس پر زکاۃ کا حکم کب آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکاۃ کے لیے مقرر مقدار کا اعتبار ہے۔
- پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں۔
- پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں۔
- پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں۔
