سنن نسائی حدیث ۲۴۷۶ - کھجور، چاندی اور اونٹ کا نصاب

کھجور، چاندی اور اونٹ کے نصاب زکاۃ کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۷۶

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ مَالِكٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْمَازِنِيّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ , وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ , وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۷۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں زکاۃ کے نصاب کو کھجور، چاندی اور اونٹ کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا کہ پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ زکاۃ ایک منظم عبادت ہے، اس میں مقدار اور حد کا خیال رکھا جاتا ہے۔ جو مال نصاب تک نہ پہنچے، اس پر اس حدیث کے مطابق زکاۃ نہیں۔ کھجور کی زکاۃ، چاندی کا نصاب، اونٹ کی زکاۃ اور زکاۃ کا نصاب اردو میں اکثر تلاش کیے جانے والے موضوعات ہیں۔ اس روایت میں تین مختلف مالوں کی کم از کم حد واضح کی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کھجور میں زکاۃ کے لیے پانچ وسق کی حد بیان ہوئی۔
  • چاندی میں پانچ اوقیہ سے کم پر زکاۃ نہیں۔
  • اونٹوں میں پانچ سے کم پر زکاۃ نہیں۔
  • زکاۃ میں مقدار کا علم ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں