سنن نسائی حدیث ۲۴۷۷ - پانچ وسق اور پانچ اوقیہ کا حکم

پانچ وسق، پانچ اوقیہ اور پانچ اونٹ کا نصاب

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۷۷

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ " .

ابو سعید خدری روایت:

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔ اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۷۷ کا خلاصہ

اس روایت میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں۔ یہاں تین چیزوں کا ذکر ہے: کھجور، چاندی اور اونٹ۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ زکاۃ کے لیے مال کا ایک خاص معیار ہے۔ نصاب سے کم مال پر اس حدیث کے مطابق زکاۃ نہیں۔ اس لیے زکاۃ کا حساب لگاتے وقت صرف مال کی موجودگی نہیں، بلکہ اس کی مقدار بھی دیکھی جاتی ہے۔ زکاۃ کا نصاب، کھجور کی زکاۃ اور چاندی کی زکاۃ اس حدیث کے مرکزی موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زکاۃ میں نصاب کی حد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • پانچ وسق سے کم کھجور پر زکاۃ نہیں۔
  • پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر زکاۃ نہیں۔
  • پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں