سنن نسائی حدیث ۲۴۷۰ - گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف
مسلمان کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں
سنن نسائی : ۲۴۷۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۷۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ الْوَضَّاحِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ابْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا زَكَاةَ عَلَى الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۷۰ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی حکم کو بیان کرتی ہے کہ مسلمان آدمی پر اپنے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے۔ الفاظ میں معمولی فرق ہے مگر حکم وہی ہے۔ اس سے زکاۃ کے نصاب اور زکاۃ سے مستثنیٰ چیزوں کا موضوع واضح ہوتا ہے۔ عام آدمی کبھی سوچ سکتا ہے کہ جو چیز ملکیت میں ہے، اس پر لازماً زکاۃ ہوگی، لیکن حدیث بتاتی ہے کہ حکم ہر مال کے لیے ایک جیسا نہیں۔ یہاں غلام اور گھوڑا خاص طور پر ذکر ہوئے ہیں۔ اس لیے زکاۃ کے مسئلے میں جلدی سے عمومی بات نہیں کہنی چاہیے۔ زکاۃ کے مسائل، گھوڑے کی زکاۃ، غلام کی زکاۃ اور کس مال پر زکاۃ نہیں جیسے سوالات کے لیے یہ حدیث بنیادی رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکاۃ ہر ملکیتی چیز پر ایک ہی طرح لازم نہیں ہوتی۔
- اس حدیث میں غلام اور گھوڑے کو زکاۃ سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
- زکاۃ کے مسئلے میں حدیث کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔
- مالی احکام سمجھ کر ادا کرنے چاہئیں۔
