سنن نسائی حدیث ۲۴۹۱ - بارش اور نہر والی پیداوار کا عشر

بارش اور نہروں سے سیراب فصل کی زکاۃ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۹۱

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قراءة عليه وأنا أسمع ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ ، وَالْأَنْهَارُ ، وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو پیداوار آسمان کی بارش اور نہروں کے پانی سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جو پیداوار جانوروں کے ذریعہ سینچائی کر کے ہو اس میں بیسواں حصہ ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو پیداوار آسمان کی بارش، نہروں کے پانی اور چشموں سے ہو، اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے۔ اور جو پیداوار جانوروں کے ذریعے سینچائی کر کے حاصل ہو، اس میں بیسواں حصہ ہے۔ اس حدیث میں زرعی پیداوار کی زکاۃ کا حکم سادہ انداز میں آتا ہے۔ اگر پانی قدرتی طور پر یا بغیر اس طرح کی محنت کے پہنچ رہا ہے تو عشر ہے۔ اگر جانوروں کے ذریعے پانی کھینچ کر سینچائی ہو رہی ہے تو نصف عشر ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ کے حکم میں پیداوار کے حصول کا طریقہ بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، صرف صاف اصول ہے: قدرتی پانی والی پیداوار اور محنت والی سینچائی کا حکم الگ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بارش، نہر اور چشمے سے سیراب پیداوار میں عشر ہے۔
  • جانوروں کے ذریعے سینچائی والی پیداوار میں نصف عشر ہے۔
  • زرعی زکاۃ میں پانی پہنچانے کا ذریعہ اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں