سنن نسائی حدیث ۲۴۹۰ - بارانی اور سیرابی زمین کی زکاۃ
زرعی پیداوار کی زکاۃ: عشر اور نصف عشر
سنن نسائی : ۲۴۹۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۹۰
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ أَبُو جَعْفَرٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ ، وَالْأَنْهَارُ ، وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ بَعْلًا الْعُشْرُ ، وَمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي ، وَالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے نہر اور چشمے سینچیں یا جس زمین میں تری رہتی ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے۔ اور جو اونٹوں سے سینچا جائے یا ڈول سے اس میں بیسواں حصہ ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس زمین کو آسمان کا پانی، نہریں یا چشمے سینچیں، یا جس زمین میں تری رہتی ہو، اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے۔ اور جس زمین کو اونٹوں یا ڈول سے سینچا جائے، اس میں بیسواں حصہ ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع زرعی زکاۃ ہے۔ یہاں فرق پانی کے طریقے کی بنیاد پر بیان ہوا ہے۔ جہاں پیداوار قدرتی پانی سے ہو، وہاں عشر یعنی دسواں حصہ ہے۔ جہاں پانی لانے میں محنت اور خرچ ہو، وہاں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ ہے۔ اس سے زکاۃ کے حکم میں آسانی اور حالات کا فرق سمجھ آتا ہے، مگر بات صرف اسی حد تک ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بارش، نہر یا چشمے سے سیراب پیداوار میں عشر بیان ہوا ہے۔
- ڈول یا جانوروں کے ذریعے سینچی گئی پیداوار میں نصف عشر ہے۔
- زرعی زکاۃ میں پانی کے طریقے کا فرق اثر رکھتا ہے۔
