سنن نسائی حدیث ۲۴۹۲ - یمن میں عشر وصول کرنے کا حکم
معاذ رضی اللہ عنہ کو عشر اور نصف عشر کا حکم
سنن نسائی : ۲۴۹۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۹۲
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، " فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِمَّا سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرَ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفَ الْعُشْرِ " .
معاذ بن جبل روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ جسے آسمان کے پانی نے سینچا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو پیداوار ڈولوں کے پانی سے (سینچائی کر کے) ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ لوں۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، تو حکم دیا کہ جس پیداوار کو آسمان کے پانی نے سینچا ہو، اس میں دسواں حصہ زکاۃ لیں۔ اور جو پیداوار ڈولوں کے پانی سے سینچی گئی ہو، اس میں بیسواں حصہ زکاۃ لیں۔ یہ روایت زرعی زکاۃ کے عملی نفاذ کو دکھاتی ہے۔ یہاں صرف حکم نہیں بتایا گیا بلکہ ایک صحابی کو علاقے میں بھیجتے وقت یہی اصول دیا گیا۔ بارش کے پانی والی پیداوار میں عشر اور ڈول سے سینچائی والی پیداوار میں نصف عشر۔ اس حدیث سے قاری کو آسانی سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ کا حساب زمین اور فصل کے ساتھ ساتھ پانی کے طریقے سے بھی جڑا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آسمانی پانی سے سیراب پیداوار میں عشر لینے کا حکم دیا گیا۔
- ڈولوں سے سینچی گئی پیداوار میں نصف عشر لینے کا حکم آیا۔
- زکاۃ وصول کرنے والے کو واضح اصول کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
