سنن نسائی حدیث ۲۴۸۵ - پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں

غلہ اور کھجور کا نصاب زکاۃ: پانچ وسق

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۸۵

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ حَبٍّ أَوْ تَمْرٍ صَدَقَةٌ " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم غلے یا کھجور میں زکاۃ نہیں ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلے یا کھجور میں زکاۃ نہیں ہے۔ اس حدیث کا موضوع نصاب زکاۃ ہے، یعنی وہ کم سے کم مقدار جس تک مال یا پیداوار پہنچے تو زکاۃ لازم ہوتی ہے۔ یہاں خاص طور پر غلہ اور کھجور کا ذکر ہے۔ حدیث بہت مختصر ہے مگر اس کا پیغام واضح ہے کہ ہر تھوڑی پیداوار پر زکاۃ نہیں لگتی، بلکہ شریعت نے اس کے لیے ایک حد مقرر کی ہے۔ جو پیداوار پانچ وسق سے کم ہو، اس پر اس حدیث کے مطابق صدقہ یعنی زکاۃ نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ کے احکام میں مقدار اور نصاب کو سمجھنا ضروری ہے، تاکہ آدمی نہ کمی کرے اور نہ اپنی طرف سے زیادتی کو لازم سمجھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غلہ اور کھجور میں زکاۃ کے لیے پانچ وسق کا نصاب بیان ہوا ہے۔
  • ہر کم مقدار پیداوار پر زکاۃ لازم نہیں ہوتی۔
  • زکاۃ کے احکام سمجھنے میں نصاب کا علم ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں