سنن نسائی حدیث ۲۴۸۹ - چاندی، اونٹ اور غلہ کا نصاب

چاندی، اونٹ اور غلہ کے نصاب زکاۃ کی جامع حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۸۹

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ " .

ابو سعید خدری روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم (چاندی) میں زکاۃ نہیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ وسق سے کم غلہ میں زکاۃ ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۸۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین نصاب ایک ساتھ بیان فرمائے۔ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں۔ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں۔ پانچ وسق سے کم غلہ میں زکاۃ نہیں۔ یہ الفاظ زکاۃ کا نصاب سمجھنے والوں کے لیے بہت واضح ہیں۔ حدیث بتاتی ہے کہ ہر مال پر زکاۃ لگانے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ نصاب تک پہنچا ہے یا نہیں۔ چاندی کا نصاب الگ ہے، اونٹوں کا نصاب الگ ہے، اور غلہ کا نصاب الگ ہے۔ اس روایت سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ زکاۃ کا معاملہ صرف جذبے کا نہیں بلکہ صحیح علم اور درست حساب کا بھی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اپنے مال کی قسم اور مقدار کو دیکھ کر زکاۃ کا حکم سمجھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چاندی، اونٹ اور غلہ کے لیے الگ الگ نصاب بیان ہوئے ہیں۔
  • نصاب سے کم مال پر اس حدیث کے مطابق زکاۃ نہیں۔
  • زکاۃ ادا کرنے سے پہلے مال کی مقدار جاننا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں