سنن نسائی حدیث ۲۴۸۶ - غلہ، چاندی اور اونٹ کا نصاب

زکاۃ کا نصاب: گیہوں، کھجور، چاندی اور اونٹ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۸۶

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ فِي الْبُرِّ وَالتَّمْرِ زَكَاةٌ ، حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ ، وَلَا يَحِلُّ فِي الْوَرِقِ زَكَاةٌ ، حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوَاقٍ ، وَلَا يَحِلُّ فِي إِبِلٍ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیہوں اور کھجور میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ وسق کو پہنچ جائے، اسی طرح چاندی میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ اوقیہ کو پہنچ جائے۔ اور اونٹ میں زکاۃ نہیں ہے یہاں تک کہ وہ پانچ کی تعداد کو پہنچ جائیں“۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کا نصاب زکاۃ بیان فرمایا: گیہوں اور کھجور، چاندی، اور اونٹ۔ گیہوں اور کھجور میں زکاۃ اس وقت تک نہیں جب تک وہ پانچ وسق تک نہ پہنچ جائیں۔ چاندی میں زکاۃ اس وقت تک نہیں جب تک وہ پانچ اوقیہ تک نہ پہنچ جائے۔ اسی طرح اونٹوں میں زکاۃ اس وقت تک نہیں جب تک وہ پانچ کی تعداد کو نہ پہنچ جائیں۔ یہ حدیث نصاب زکاۃ کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں مختلف اموال کی کم سے کم حد صاف بیان ہوئی ہے۔ اس سے قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ کا حکم صرف نیت یا اندازے سے نہیں بلکہ مقرر مقداروں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گیہوں اور کھجور کا نصاب پانچ وسق بتایا گیا ہے۔
  • چاندی کا نصاب پانچ اوقیہ بیان ہوا ہے۔
  • اونٹوں میں زکاۃ پانچ اونٹ تک پہنچنے کے بعد آتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں