سنن نسائی حدیث ۲۴۸۷ - غلہ، اونٹ اور چاندی کی زکاۃ

غلہ، کھجور، اونٹ اور چاندی کے نصاب کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۸۷

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ ذَوْدٍ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .

ابو سعید خدری روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلہ میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ کھجور میں یہاں تک کہ یہ پانچ وسق ہو جائیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۸۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غلہ اور کھجور میں زکاۃ نہیں جب تک وہ پانچ وسق تک نہ پہنچ جائیں۔ اسی طرح پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں بھی زکاۃ نہیں۔ یہ روایت اسی موضوع کو مزید واضح کرتی ہے کہ زکاۃ کے لیے نصاب شرط ہے۔ نصاب کا مطلب ہے وہ مقرر حد جس کے بعد زکاۃ کا حکم آتا ہے۔ اس حدیث میں تین عام چیزیں ذکر ہوئیں: کھیتی کی پیداوار، مویشی یعنی اونٹ، اور چاندی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ کے احکام میں ہر مال کا الگ حساب ہو سکتا ہے۔ عام آدمی کے لیے اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ وہ زکاۃ دیتے وقت صرف اندازہ نہ لگائے بلکہ نصاب کے بارے میں درست بات معلوم کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پانچ وسق سے کم غلہ یا کھجور پر زکاۃ نہیں۔
  • پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ کا حکم نہیں آیا۔
  • پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر زکاۃ نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں