سنن نسائی حدیث ۲۴۸۸ - پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر زکاۃ نہیں

چاندی کی زکاۃ کا نصاب: پانچ اوقیہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۸۸

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔ یہ حدیث چاندی کی زکاۃ کا نصاب بتاتی ہے۔ یعنی اگر چاندی اس مقرر مقدار سے کم ہو تو اس پر زکاۃ نہیں۔ اس روایت میں بات بہت مختصر ہے، مگر زکاۃ کے حساب کے لیے یہ بنیادی بات ہے۔ چاندی، نقدی اور مال کے احکام سمجھنے میں نصاب کا تصور اہم ہے، لیکن یہاں ہم صرف اسی بات تک رہتے ہیں جو حدیث میں آئی ہے: پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر زکاۃ نہیں۔ اس سے آدمی کو معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ میں مقدار کی حد شریعت کی طرف سے مقرر ہے، اسے اپنی پسند سے کم یا زیادہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چاندی کی زکاۃ کے لیے پانچ اوقیہ کا نصاب بیان ہوا ہے۔
  • پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر اس حدیث کے مطابق زکاۃ نہیں۔
  • زکاۃ کے حساب میں مقرر نصاب کو جاننا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں