سنن نسائی حدیث ۲۴۹۴ - زکاۃ میں خراب مال لینے کی ممانعت
زکاۃ میں خراب مال لینے کی ممانعت
سنن نسائی : ۲۴۹۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۹۴
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ الْيَحْصَبِيُّ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فِي الْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267 , قَالَ : هُوَ الْجُعْرُورُ وَلَوْنُ حُبَيْقٍ ، " فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُؤْخَذَ فِي الصَّدَقَةِ الرُّذَالَةُ " .
ابن شہاب زہری روایت:
ابوامامہ بن سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اللہ عز و جل کے فرمان: «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ”اللہ کی راہ میں برا مال خرچ کرنے کا قصد نہ کرو“ (البقرہ: ۲۶۷) کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ «خبيث» سے مراد «جعرور» اور «لون حبیق» ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ میں خراب مال لینے سے منع فرما دیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۹۴ کا خلاصہ
اس روایت میں ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے قرآن کی آیت «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» کے بارے میں بتایا کہ خبیث سے مراد خراب قسم کی کھجوریں، جیسے جعرور اور لون حبیق ہیں۔ پھر بیان ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ میں خراب مال لینے سے منع فرمایا۔ اس حدیث کا بنیادی پیغام صدقہ اور زکاۃ کے معیار سے متعلق ہے۔ آدمی اللہ کی راہ میں وہ چیز نہ دے جو خود پسند نہ کرے یا جسے خراب سمجھا جائے۔ اسی طرح زکاۃ وصول کرنے والے کو بھی ردی مال لینے کا طریقہ نہیں اپنانا چاہیے۔ حدیث میں بات بہت واضح ہے: زکاۃ میں خراب مال، ردی کھجور یا کم درجے کی چیز کو مقصد بنا کر لینا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکاۃ میں خراب اور ردی مال لینے سے منع کیا گیا ہے۔
- صدقہ دیتے وقت مال کے معیار کا خیال رکھنا چاہیے۔
- قرآن کی آیت کے ساتھ حدیث میں خراب مال کی مثال واضح کی گئی ہے۔
