سنن نسائی حدیث ۲۴۹۵ - خراب کھجور صدقہ کرنے کی تنبیہ
صدقہ میں خراب کھجور دینے پر نبی صلى الله عليه وسلم کی تنبیہ
سنن نسائی : ۲۴۹۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۹۵
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْخَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ عَصًا ، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قِنْوَ حَشَفٍ ، فَجَعَلَ يَطْعَنُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ , فَقَالَ : " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْ هَذَا ، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ حَشَفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
عوف بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی (مسجد میں پہنچے) وہاں ایک شخص نے سوکھی خراب کھجور کا ایک گچھا لٹکا رکھا تھا آپ اس گچھے میں (لاٹھی سے) کوچتے جاتے تھے، اور فرماتے جاتے تھے: ”یہ صدقہ دینے والا اگر چاہتا تو اس سے اچھی کھجوریں دے سکتا تھا، یہ صدقہ دینے والا قیامت میں اسی طرح کی سوکھی خراب کھجوریں کھائے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی۔ مسجد میں ایک شخص نے خشک خراب کھجوروں کا گچھا لٹکا رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گچھے میں چھڑی سے اشارہ کرتے جاتے اور فرماتے کہ اس صدقہ دینے والے نے اگر چاہا ہوتا تو اس سے اچھی کھجوریں دے سکتا تھا۔ پھر فرمایا کہ یہ صدقہ دینے والا قیامت میں اسی طرح کی سوکھی خراب کھجوریں کھائے گا۔ اس حدیث میں صدقہ کا معیار بہت صاف سمجھ آتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جان بوجھ کر خراب چیز دینا مناسب نہیں۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ ہر کم قیمت چیز منع ہے، بلکہ یہاں خاص بات یہ ہے کہ دینے والا بہتر دے سکتا تھا مگر اس نے خراب کھجور دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ میں جان بوجھ کر خراب چیز دینا پسندیدہ عمل نہیں۔
- جب بہتر دینے کی گنجائش ہو تو ردی چیز آگے نہ کی جائے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے غلط صدقہ کے انداز پر صاف تنبیہ فرمائی۔
