سنن نسائی حدیث ۲۴۹۶ - راستے کی گری چیز اور رکاز کا حکم
لقطہ اور رکاز: ملی ہوئی چیز کا شرعی حکم
سنن نسائی : ۲۴۹۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۹۶
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ , فَقَالَ : " مَا كَانَ فِي طَرِيقٍ مَأْتِيٍّ أَوْ فِي قَرْيَةٍ عَامِرَةٍ ، فَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَلَكَ ، وَمَا لَمْ يَكُنْ فِي طَرِيقٍ مَأْتِيٍّ وَلَا فِي قَرْيَةٍ عَامِرَةٍ فَفِيهِ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " .
عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستہ میں پڑی ہوئی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جو چیز چالو راستے میں ملے یا آباد بستی میں، تو سال بھر اسے پہنچواتے رہو، اگر اس کا مالک آ جائے (اور پہچان بتائے) تو اسے دے دو، ورنہ وہ تمہاری ہے، اور جو کسی چالو راستے یا کسی آباد بستی کے علاوہ میں ملے تو اس میں اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے“ (یعنی: زکاۃ نکال کر خود استعمال کر لے)۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں پڑی ہوئی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز چالو راستے یا آباد بستی میں ملے، اسے سال بھر پہنچواتے رہو یعنی اس کا اعلان کرو۔ اگر مالک آ جائے اور پہچان بتا دے تو اسے دے دو، ورنہ وہ تمہاری ہے۔ پھر فرمایا کہ جو چیز چالو راستے یا آباد بستی کے علاوہ ملے، تو اس میں اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے۔ اس حدیث کا موضوع لقطہ اور رکاز ہے۔ اس میں امانت، مالک کا حق، اعلان کی مدت اور دفینے کے پانچویں حصے کا حکم ایک ساتھ بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آباد جگہ یا چالو راستے میں ملی چیز کا ایک سال اعلان کیا جائے۔
- مالک پہچان بتا دے تو ملی ہوئی چیز اسے واپس کی جائے۔
- رکاز یعنی پرانے دفینے میں پانچواں حصہ بیان ہوا ہے۔
