سنن نسائی حدیث ۲۴۹۷ - جانور، کنواں، کان اور رکاز کا حکم
رکاز میں خمس اور حادثات کے احکام
سنن نسائی : ۲۴۹۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۹۷
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ , وأَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ".
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنوئیں میں گر کر کوئی مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے، کان میں کوئی دب کر مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنویں میں گر کر کوئی مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے، کان میں کوئی دب کر مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے۔ اس روایت میں دو طرح کی باتیں آئیں۔ پہلی بات بعض حادثات کے بارے میں ہے، جنہیں حدیث میں جبار یعنی رائیگاں کہا گیا۔ دوسری بات رکاز یعنی پرانے دفینے کے بارے میں ہے کہ اس میں خمس، یعنی پانچواں حصہ ہے۔ اس حدیث میں الفاظ مختصر ہیں، اس لیے اس کی تفصیل میں اپنی طرف سے بات نہیں بڑھانی چاہیے۔ اصل بات یہی ہے کہ رکاز کا خمس بیان ہوا اور جانور، کنواں، کان کے حادثات کا ایک خاص حکم آیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکاز یعنی پرانے دفینے میں پانچواں حصہ بیان ہوا ہے۔
- جانور، کنواں اور کان سے متعلق حادثات کا حکم حدیث میں الگ انداز سے آیا ہے۔
- حدیث کے مختصر الفاظ کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جتنا متن بتاتا ہے۔
