سنن نسائی حدیث ۲۵۰۰ - کنواں، جانور، کان اور رکاز
رکاز کا خمس اور حادثات کا حکم
سنن نسائی : ۲۵۰۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۰۰
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ ، وَهِشَامٌ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنویں میں گر کر مر جانا لغو و رائیگاں ہے۔ جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے۔ کان میں دب کر مر جانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۵۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنویں میں گر کر مر جانا رائیگاں ہے، جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کان میں دب کر مر جانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے۔ یہ روایت اسی مضمون کو ایک اور ترتیب سے بیان کرتی ہے۔ پہلے کنویں کا ذکر آیا، پھر جانور کا، پھر کان کا، اور آخر میں رکاز کا خمس۔ حدیث کا اصل فائدہ یہ ہے کہ پرانے دفینے کے بارے میں پانچواں حصہ بتایا گیا ہے، اور کچھ حادثات کے بارے میں جبار کا لفظ آیا ہے۔ اس روایت کو سمجھتے ہوئے الفاظ کی ترتیب بدلنے سے حکم کا اصل مضمون نہیں بدلتا، کیونکہ متعلقہ روایتوں میں یہی چار باتیں بار بار آ رہی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکاز یعنی دفینے میں پانچواں حصہ بیان ہوا ہے۔
- کنواں، جانور اور کان کے حادثات کے لیے جبار کا لفظ آیا ہے۔
- ایک ہی مضمون مختلف روایتوں میں مختلف ترتیب سے آ سکتا ہے۔
