سنن نسائی حدیث ۲۴۹۸ - رکاز اور حادثات کی دوسری سند
رکاز کا خمس: اسی مضمون کی دوسری روایت
سنن نسائی : ۲۴۹۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۹۸
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدٍ , وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ .
´اس سند سے بھی` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۹۸ کا خلاصہ
اس روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مضمون مروی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی روایت والا حکم یہاں دوسری سند سے آیا ہے۔ اس میں جانور کے زخمی کرنے، کنویں، کان اور رکاز کے بارے میں وہی بات مراد ہے جو اسی سلسلے کی روایتوں میں بیان ہوئی ہے: جانور، کنویں اور کان سے متعلق حادثات کو رائیگاں کہا گیا، اور رکاز میں پانچواں حصہ بیان ہوا۔ اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ ایک ہی حکم مختلف سندوں سے نقل ہوا، جس سے حدیثی نقل کا انداز سمجھ آتا ہے۔ یہاں متن مختصر ہے، اس لیے اصل مضمون کو پچھلی روایت کے دائرے میں سمجھنا چاہیے، اپنی طرف سے نیا حکم شامل نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔
- رکاز کے خمس کا حکم اس سلسلے کی روایتوں میں بار بار آیا ہے۔
- مختصر روایت کو اسی سے ملتی روایت کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔
