سنن نسائی حدیث ۲۵۴۰ - بیوی کے صدقہ میں شوہر اور خازن کا اجر
بیوی کا صدقہ: اجر شوہر، بیوی اور خازن کے لیے
سنن نسائی : ۲۵۴۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۴۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا كَانَ لَهَا أَجْرٌ ، وَلِلزَّوْجِ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَلَا يَنْقُصُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ أَجْرِ صَاحِبِهِ شَيْئًا ، لِلزَّوْجِ بِمَا كَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ " .
عائشہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دے تو اسے ثواب ملے گا، اور اس کے شوہر کو بھی۔ اور خازن کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا، اور ان میں سے کوئی دوسرے کا ثواب کم نہ کرے گا، شوہر کو اس کے کمانے کی وجہ سے ثواب ملے گا، اور بیوی کو اس کے خرچ کرنے کی وجہ سے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۵۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب عورت اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دے تو اسے اجر ملے گا، اس کے شوہر کو بھی اجر ملے گا، اور خازن کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا۔ پھر فرمایا کہ ان میں سے کوئی دوسرے کے اجر میں کمی نہیں کرتا۔ شوہر کو اس کی کمائی کی وجہ سے اجر ملتا ہے، اور بیوی کو خرچ کرنے کی وجہ سے۔ اس روایت میں گھریلو صدقہ، مشترک اجر، اور نیکی میں تعاون کا مضمون ہے۔ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک نیکی میں مختلف لوگ اپنے اپنے حصے کے مطابق اجر پا سکتے ہیں، اور کسی کا اجر دوسرے کی وجہ سے کم نہیں ہوتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شوہر کے مال سے صدقہ دینے والی عورت کے لیے اجر بیان ہوا ہے۔
- شوہر کو اس کی کمائی کی وجہ سے اجر ملتا ہے۔
- خازن کو بھی اس عمل میں اجر مل سکتا ہے۔
- ایک نیکی میں شریک لوگوں کا اجر ایک دوسرے سے کم نہیں کیا جاتا۔
