سنن نسائی حدیث ۲۵۶۴ - تین گناہوں کی سخت وعید
جھوٹی قسم، احسان جتانا اور تکبر کی سخت وعید
سنن نسائی : ۲۵۶۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۶۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُدْرِكِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : خَابُوا وَخَسِرُوا ، خَابُوا وَخَسِرُوا , قَالَ : الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ ، وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ " .
ابوذر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی۔ تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ نامراد ہوئے، گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: ”(وہ تین یہ ہیں) اپنا تہبند ٹخنے کے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنے سامان کو رواج دینے والا، اپنے دیے ہوئے کا احسان جتانے والا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۵۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں تین لوگوں کے بارے میں سخت الفاظ آئے ہیں۔ پہلا وہ جو اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے، دوسرا وہ جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا سامان بیچتا ہے، اور تیسرا وہ جو اپنے دیے ہوئے کا احسان جتاتا ہے۔ حدیث میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے لوگوں سے بات نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ اس میں مسلمان کے لباس، تجارت اور صدقہ تینوں کی اصلاح کا پیغام ہے۔ نیکی صرف عمل کا نام نہیں، بلکہ سچائی، عاجزی اور صاف نیت بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنا بہت برا عمل ہے۔
- صدقہ دے کر احسان جتانا نیکی کو خراب کرتا ہے۔
- لباس میں تکبر والا انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
- تجارت میں سچ بولنا مسلمان کی پہچان ہے۔
