سنن نسائی حدیث ۲۵۶۵ - احسان جتانے اور جھوٹی قسم کی وعید
احسان جتانے، تکبر اور جھوٹی قسم سے بچنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۵۶۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۶۵
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ الْأَعْمَشُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ : الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ " .
ابوذر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ عزوجل نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک و صاف کرے گا، اور انہیں درد ناک عذاب ہو گا: اپنے دئیے ہوئے کا احسان جتانے والا، اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، اپنے سامان کو جھوٹی قسمیں کھا کر رواج دینے والا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۵۶۵ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے مضمون کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل قیامت کے دن بات نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ ان میں اپنے دیے ہوئے کا احسان جتانے والا، تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، اور جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا سامان رواج دینے والا شامل ہیں۔ اس حدیث کا پیغام بہت صاف ہے: نیکی میں دکھاوا یا احسان جتانا نہ ہو، لباس میں تکبر نہ ہو، اور خرید و فروخت میں جھوٹ نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینا ہو تو احسان جتائے بغیر دینا چاہیے۔
- تجارت میں جھوٹی قسم سے بچنا لازم ہے۔
- لباس میں غرور اور تکبر کا انداز نہیں ہونا چاہیے۔
- قیامت کی وعید انسان کو اپنی اصلاح کی طرف بلاتی ہے۔
