سنن نسائی حدیث ۲۵۷۷ - اللہ کو ناپسند چار لوگ
قسمیں کھا کر بیچنے والا اور ظالم حاکم
سنن نسائی : ۲۵۷۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۷۷
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَرْبَعَةٌ يَبْغُضُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : الْبَيَّاعُ الْحَلَّافُ ، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ ، وَالشَّيْخُ الزَّانِي ، وَالْإِمَامُ الْجَائِرُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار طرح کے لوگ ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے: قسمیں کھا کھا کر بیچنے والا، گھمنڈی فقیر، بوڑھا زنا کار، ظالم امام (حاکم)“۔
سنن نسائی حدیث ۲۵۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں چار طرح کے لوگوں کا ذکر ہے جن سے اللہ عزوجل بغض رکھتا ہے۔ قسمیں کھا کھا کر بیچنے والا، گھمنڈی فقیر، بوڑھا زنا کار، اور ظالم امام یعنی حاکم۔ یہ چاروں کردار مختلف جگہوں سے متعلق ہیں: بازار، ذاتی اخلاق، نفس کی پاکیزگی اور اقتدار۔ حدیث بتاتی ہے کہ دین صرف عبادت تک محدود نہیں، بلکہ خرید و فروخت، عاجزی، پاک دامنی اور انصاف بھی دین کا حصہ ہیں۔ قسمیں کھا کر مال بیچنا خریدار کو دھوکے میں ڈال سکتا ہے۔ تکبر انسان کو خراب کرتا ہے، اور ظلم منصب کو گناہ کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تجارت میں بار بار قسمیں کھانا برا رویہ ہے۔
- فقر کے باوجود تکبر کرنا ناپسندیدہ ہے۔
- حاکم یا ذمہ دار شخص کو ظلم سے بچنا چاہیے۔
- پاکیزہ کردار مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
