سنن نسائی حدیث ۲۵۷۸ - بیوہ اور مسکین کی خدمت

بیوہ اور مسکین کی خدمت کی بڑی فضیلت

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۷۸

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ ، كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اور مسکین پر خرچ کرنے کے لیے محنت کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۵۷۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ عورت اور مسکین کے لیے محنت کرنے والے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی۔ فرمایا کہ جو شخص بیوہ اور مسکین پر خرچ کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے۔ یہاں صرف مال دینے کا ذکر نہیں، بلکہ کوشش کرنے کا ذکر ہے۔ یعنی کوئی شخص اپنی محنت، وقت اور وسائل لگا کر کمزور لوگوں کا سہارا بنے۔ بیوہ اور مسکین معاشرے میں ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جنہیں مستقل مدد کی ضرورت ہو۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ خدمت، کفالت اور کمزوروں کا خیال رکھنا بہت پسندیدہ عمل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیوہ اور مسکین کی مدد بڑی نیکی ہے۔
  • مدد کے لیے محنت کرنا بھی قابل قدر عمل ہے۔
  • کمزور لوگوں کا مستقل خیال رکھنا چاہیے۔
  • خدمت کا کام اللہ کے راستے کی محنت سے جوڑا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں