سنن نسائی حدیث ۲۵۷۹ - قرآن پڑھ کر بھی عمل سے دور لوگ

قرآن پڑھنا کافی نہیں، دل تک اترنا بھی ضروری ہے

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۷۹

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَعَثَ عَلِيٌّ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ بِتُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ : الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ ، وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ ، فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَقَالَ : مَرَّةً أُخْرَى صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ , فَقَالُوا : تُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَتَدَعُنَا , قَالَ : " إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِأَتَأَلَّفَهُمْ " , فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ ، غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ ، نَاتِئُ الْجَبِينِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ ، فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ , قَالَ : " فَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ عَصَيْتُهُ ، أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي " ، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ يَرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " .

ابو سعید خدری روایت:

علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی ملا ہوا غیر صاف شدہ سونے کا ایک ڈلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدر فرازی، اور علقمہ بن علاثہ جو عامری تھے پھر وہ بنی کلاب کے ایک فرد بن گئے، اور زید جو طائی تھے پھر بنی نبہان میں سے ہو گئے، کے درمیان تقسیم کر دیا۔ (یہ دیکھ کر) قریش کے لوگ غصہ ہو گئے۔ راوی نے دوسری بار کہا: قریش کے سرکردہ لوگ غصہ ہو گئے، اور کہنے لگے کہ آپ نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑ دیتے ہیں؟آپ نے فرمایا: ”میں نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی تالیف قلب کروں (یعنی انہیں رجھا سکوں)“، اتنے میں گھنی داڑھی والا، ابھرے گالوں والا دھنسی آنکھوں والا، ابھری پیشانی والا، منڈے سر والا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: محمد اللہ سے ڈرو، آپ نے فرمایا: ”اگر میں ہی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو پھر اللہ عزوجل کی تابعداری کون کرے گا؟ وہ مجھے سارے زمین والوں میں اپنا امین (معتمد) سمجھتا ہے، اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے“، پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی (لوگوں کا خیال ہے کہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اہل اسلام کو قتل کریں گے، اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔یہ لوگ اسلام سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم کو چھیدتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے انہیں پایا، تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کر دوں گا“۔

سنن نسائی حدیث ۲۵۷۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک واقعہ بیان ہوا کہ یمن سے آیا ہوا سونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں میں تقسیم کیا۔ قریش کے بعض لوگوں کو اس پر ناراضی ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے ایسا ان کی تالیف قلب کے لیے کیا ہے۔ پھر ایک شخص آیا اور اس نے سخت انداز میں کہا کہ اللہ سے ڈرو۔ آپ نے جواب دیا کہ اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں تو پھر اللہ کی اطاعت کون کرے گا؟ پھر آپ نے اس شخص کی نسل سے ایسے لوگوں کی خبر دی جو قرآن پڑھیں گے، مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ حدیث بتاتی ہے کہ صرف زبان سے قرآن پڑھنا کافی نہیں، دل اور عمل بھی درست ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم حکمت پر مبنی تھی۔
  • دینی بات میں بے ادبی اور بدگمانی سے بچنا چاہیے۔
  • قرآن پڑھنے کے ساتھ عمل اور صحیح سوچ بھی ضروری ہے۔
  • مسلمانوں کے خلاف ظلم بہت خطرناک رویہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں