سنن نسائی حدیث ۲۶۱۰ - آل محمد کے لیے صدقہ کا حکم

آل محمد کے لیے صدقہ جائز نہیں

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۱۰

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ : لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، وَالْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولَا لَهُ اسْتَعْمِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الصَّدَقَاتِ ، فَأَتَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، فَقَالَ لَهُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَعْمِلُ مِنْكُمْ أَحَدًا عَلَى الصَّدَقَةِ ، قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ : فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَنَا : " إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

عبدالمطلب بن ربیعہ روایت:

´عبدالمطلب بن ربیعہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ان کے والد ربیعہ بن حارث نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہم سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، اور آپ سے کہو کہ اللہ کے رسول! آپ ہمیں صدقہ پر عامل بنا دیں، ہم اسی حال میں تھے کہ علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم دونوں میں سے کسی کو بھی صدقہ پر عامل مقرر نہیں فرمائیں گے۔ عبدالمطلب کہتے ہیں: (ان کے ایسا کہنے کے باوجود بھی) میں اور فضل دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو آپ نے ہم سے فرمایا: ”یہ صدقہ جو ہے یہ لوگوں کا میل ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آل کے لیے جائز نہیں“۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ ان کے والد نے انہیں اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجنا چاہا تاکہ آپ انہیں صدقہ پر عامل بنا دیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی کو صدقہ پر عامل نہیں بنائیں گے۔ پھر جب وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے صاف فرمایا کہ یہ صدقہ لوگوں کا میل ہے، اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور آل محمد کے لیے حلال نہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع آل محمد کے لیے صدقہ کا حکم ہے۔ یہاں صدقہ کو لوگوں کے مال کی صفائی کے معنی میں بیان کیا گیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اپنے گھرانے کے لیے اس سے الگ رہنے کا حکم واضح فرمایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد کے لیے صدقہ حلال نہیں بتایا گیا۔
  • صدقہ لوگوں کے مال کی صفائی کے طور پر ذکر ہوا ہے۔
  • دینی کاموں میں منصب یا ذمہ داری بھی شرعی حدود کے اندر ہوتی ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھرانے کے لیے بھی واضح اصول بیان فرمایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں