سنن نسائی حدیث ۲۶۱۱ - بھانجا بھی اپنوں میں سے ہے

بھانجا بھی خاندان میں شمار ہوتا ہے

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۱۱

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَسَمِعْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ " ؟ قَالَ : نَعَمْ .

شعبہ روایت:

میں نے ابوایاس معاویہ بن قرہ سے پوچھا: کیا آپ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں (میں نے سنا ہے)۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں شعبہ رحمہ اللہ نے ابوایاس معاویہ بن قرہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کرتے سنا ہے کہ لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر اس میں رشتے کی نسبت کا ایک صاف اصول بیان ہوا ہے۔ بھانجا صرف باہر کا فرد نہیں سمجھا گیا، بلکہ قوم اور خاندان کے تعلق میں اسے اپنوں میں شمار کیا گیا۔ اس حدیث کا تعلق خاندانی نسبت، رشتہ داری اور اپنائیت سے ہے۔ متن میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، اس لیے اس سے اتنی ہی بات لی جائے گی کہ بھانجا اپنی ماں کے خاندان کے ساتھ نسبت رکھتا ہے اور اسے ان سے جدا نہیں سمجھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بھانجے کو قوم اور خاندان کے تعلق میں اپنوں میں شمار کیا گیا۔
  • رشتہ داری کی نسبت کو حدیث میں اہم مانا گیا ہے۔
  • مختصر حدیث سے بھی واضح خاندانی اصول ملتا ہے۔
  • روایت کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جو متن میں بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں