سنن نسائی حدیث ۲۶۱۲ - بھانجا اپنوں میں شامل ہے

بھانجے کی نسبت اور اپنائیت کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۱۲

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۱۲ کا خلاصہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے۔ یہ حدیث نہایت مختصر ہے، مگر اس کا مطلب صاف ہے۔ بھانجا ماں کی طرف سے خاندان سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے اسے اپنائیت اور نسبت کے دائرے میں شمار کیا گیا۔ اس روایت میں مال، وراثت یا کسی خاص معاملے کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس سے عمومی بات یہی سمجھنی چاہیے کہ شریعت رشتوں کی نسبت کو نظر انداز نہیں کرتی۔ یہ جملہ خاندان کے تعلق، سماجی شناخت اور رشتہ داری کے احترام کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ عام فہم الفاظ میں کہا جائے تو ماں کی طرف کے رشتے بھی اہم ہیں اور بھانجا بھی خاندان سے الگ نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بھانجے کو اپنی قوم اور خاندان سے منسوب کیا گیا ہے۔
  • ماں کی طرف کے رشتے بھی احترام اور نسبت رکھتے ہیں۔
  • حدیث مختصر ہے، اس لیے اس میں اضافی احکام شامل نہیں کرنے چاہییں۔
  • اپنوں کو اپنا سمجھنا خاندانی اخلاق کا حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں