سنن نسائی حدیث ۲۶۲۲ - بوڑھے والد کی طرف سے حج و عمرہ
بوڑھے والد کی طرف سے حج و عمرہ کی حدیث
سنن نسائی : ۲۶۲۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۲۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ سَالِمٍ ، قَال : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْن ؟ قَالَ : " فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ " .
ابورزین روایت:
´ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بوڑھے ہیں، نہ حج کر سکتے ہیں نہ عمرہ اور نہ سفر؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے والد کی طرف سے تم حج و عمرہ کر لو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حج بدل اور والدین کی طرف سے حج و عمرہ کا واضح مسئلہ سامنے آتا ہے۔ ابو رزین رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ حج نہیں کر سکتے، عمرہ نہیں کر سکتے اور سفر بھی نہیں کر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کر لو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب والد واقعی اتنے کمزور ہوں کہ خود سفر اور مناسک ادا نہ کر سکیں تو ان کی طرف سے حج و عمرہ کرنا درست ہے۔ یہ حدیث اولاد کو والدین کے دینی حق کی طرف متوجہ کرتی ہے، خاص طور پر جب والدین کمزوری یا بڑھاپے کی وجہ سے خود عبادت ادا نہ کر سکیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- والدین کمزور ہوں تو اولاد ان کی طرف سے حج و عمرہ کر سکتی ہے۔
- دینی معاملہ پوچھ کر کرنا بہتر ہے، جیسے صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔
- بڑھاپا اور سفر کی طاقت نہ ہونا حج بدل کے مسئلے میں اہم سبب ہے۔
