سنن نسائی حدیث ۲۶۵۴ - اہل عراق اور یمن کے میقات
اہل عراق، یمن، شام اور مدینہ کے میقات
سنن نسائی : ۲۶۵۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۵۴
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَافَى ، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ وَمِصْرَ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو۔ اہل شام و مصر کے لیے حجفہ کو، اہل عراق کے لیے ذات عرق کو، اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کی ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۵۴ کا خلاصہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت میں حج کے میقات مختصر طور پر بیان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام و مصر کے لیے جحفہ، اہل عراق کے لیے ذات عرق، اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر فرمایا۔ یہ حدیث خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو حج کے میقات، احرام کی جگہ، یا مختلف علاقوں کے میقات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ اس میں نجد کا ذکر نہیں، بلکہ عراق، شام و مصر، مدینہ اور یمن کے مقامات بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے حدیث کو اسی ترتیب کے ساتھ سمجھنا چاہیے جس طرح متن میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ میقات مقرر ہوا۔
- شام و مصر والوں کے لیے جحفہ کا ذکر ہے۔
- عراق والوں کے لیے ذات عرق میقات بیان ہوا۔
- یمن والوں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا گیا۔
