سنن نسائی حدیث ۲۶۵۹ - مکہ والوں کا میقات
مکہ والوں اور میقات کے اندر رہنے والوں کا حکم
سنن نسائی : ۲۶۵۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۵۹
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَة ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا ، فَهُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ حَتَّى أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام والوں کے لیے جحفہ کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو، اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل کو۔ یہ جگہیں یہاں کے لوگوں کے لیے میقات ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کے لیے بھی جو ان پر سے ہو کر گزریں، اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھنے والوں میں سے ہوں اور جو لوگ ان جگہوں کے اندر رہتے ہوں تو وہ اپنے گھر ہی سے تلبیہ پکاریں یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے تلبیہ پکاریں گے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۵۹ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، یمن والوں کے لیے یلملم، اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل مقرر فرمایا۔ یہ جگہیں ان علاقوں کے لوگوں کے لیے بھی میقات ہیں اور ان کے علاوہ ان لوگوں کے لیے بھی جو حج و عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوئے وہاں سے گزریں۔ جو لوگ ان جگہوں کے اندر رہتے ہوں، وہ اپنے گھر ہی سے تلبیہ پکاریں، یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے تلبیہ پکاریں گے۔ یہ حدیث میقات، احرام اور تلبیہ کے بارے میں جامع انداز میں رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج و عمرہ کا ارادہ رکھنے والے کے لیے میقات کا حکم بیان ہوا ہے۔
- میقات سے گزرنے والے غیر مقامی لوگ بھی اس حکم میں شامل ہیں۔
- میقات کے اندر رہنے والے اپنے گھر سے تلبیہ شروع کرتے ہیں۔
- مکہ والوں کے لیے مکہ ہی سے تلبیہ کا ذکر ہے۔
