سنن نسائی حدیث ۲۷۲ - حائضہ کا ہاتھ اور مسجد کی چٹائی

حائضہ عورت اور مسجد سے چٹائی دینے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۲

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قالت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " ، قَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَتْ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسجد سے چٹائی دے دو“، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے“ ۱؎۔

سنن نسائی حدیث ۲۷۲ کا خلاصہ

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی دے دو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں حائضہ ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ حدیث کا اصل نکتہ بہت واضح ہے: حیض کی حالت عورت کے ہاتھ کو ناپاک نہیں بناتی۔ یہاں خاص طور پر چٹائی دینے کا ذکر ہے، اس لیے اس روایت سے غیر ضروری نفرت یا دوری کی سوچ ختم ہوتی ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ حیض کے تمام احکام ختم ہو گئے؛ بلکہ صرف یہ بتاتی ہے کہ ہاتھ کو حیض کی وجہ سے ناپاک نہ سمجھا جائے۔ یہ حائضہ عورت کے احترام اور آسانی کی خوبصورت تعلیم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حائضہ عورت کے ہاتھ کو حیض کی وجہ سے ناپاک نہیں کہا جائے گا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عام غلط فہمی کو درست فرمایا۔
  • دین میں حیض کے احکام ہیں، مگر غیر ضروری دوری نہیں۔
  • حدیث کے خاص موقع کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں