سنن نسائی حدیث ۲۷۱ - حیض ہاتھ میں نہیں ہے
حیض ہاتھ میں نہیں ہے: حائضہ کا ہاتھ پاک ہے
سنن نسائی : ۲۷۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ كَيْسَانَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قال : قال أَبُو هُرَيْرَةَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، إِذْ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، نَاوِلِينِي الثَّوْبَ " ، فَقَالَتْ : إِنِّي لَا أُصَلِّي ، قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِكِ " ، فَنَاوَلَتْهُ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! مجھے کپڑا دے دو“، کہا: میں نماز نہیں پڑھتی ہوں ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے“، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑا دیا ۲؎۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ مجھے کپڑا دے دو۔ انہوں نے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھتی، یعنی حیض کی حالت میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ پھر انہوں نے کپڑا دے دیا۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ حیض عورت کے ہاتھ کو ناپاک نہیں بنا دیتا۔ یہاں مسجد میں بیٹھنے، کپڑا لینے اور ہاتھ کے بارے میں خاص بات بیان ہوئی ہے۔ اس سے حائضہ عورت کے ساتھ عام معاملے میں غیر ضروری پرہیز کی غلط فہمی دور ہوتی ہے، مگر بات اسی متن تک محدود رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض عورت کے ہاتھ کو ناپاک نہیں بناتا۔
- حائضہ عورت سے کپڑا یا چیز لینا روایت میں بیان ہوا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان الفاظ میں غلط فہمی دور فرمائی۔
- عبادت کے مخصوص احکام کو عام جسمانی ناپاکی نہ سمجھا جائے۔
