سنن نسائی حدیث ۲۷۵۴ - تلبیہ بلند آواز سے پڑھنا
تلبیہ بلند آواز سے پڑھنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۷۵۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۵۴
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَاءَنِي جِبْرِيلُ ، فَقَالَ لِي : يَا مُحَمَّدُ مُرْ أَصْحَابَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ " .
سائب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا: محمد! آپ اپنے اصحاب کو حکم دیجئیے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں“۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے کہا کہ اے محمد! اپنے اصحاب کو حکم دیجئے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں۔ اس روایت میں اصل بات تلبیہ بلند آواز سے پڑھنا ہے۔ تلبیہ حج اور عمرہ میں اللہ کے سامنے حاضری کا اعلان ہے، اور یہاں صحابہ کو آواز بلند کرنے کا حکم پہنچایا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تلبیہ صرف دل میں پڑھنے کی چیز نہیں، بلکہ اسے ظاہر طور پر بھی ادا کیا جاتا تھا۔ اس حدیث سے تلبیہ کی آواز، حج کا شعار، اور لبیک اللہم لبیک جیسے الفاظ کی اہمیت سمجھ آتی ہے، مگر روایت کے الفاظ سے آگے بڑھ کر کوئی اضافی حکم نہیں گھڑنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں تلبیہ بلند آواز سے پڑھنے کا حکم بیان ہوا ہے۔
- جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے یہ ہدایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی۔
- تلبیہ حج و عمرہ میں اللہ کے سامنے حاضری کا اعلان ہے۔
- عبادت کے الفاظ کو سنت کے مطابق ادا کرنا چاہیے۔
