سنن نسائی حدیث ۲۸۱ - حائضہ کا جوٹھا پاک ہے

حائضہ عورت کا جوٹھا اور نبوی طہارت

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۸۱

أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَضَعُ فَاهُ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي أَشْرَبُ مِنْهُ ، فَيَشْرَبُ مِنْ فَضْلِ سُؤْرِي وَأَنَا حَائِضٌ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ (برتن میں) اسی جگہ رکھتے جہاں سے میں (منہ لگا کر) پیتی تھی، آپ میرا بچا ہوا جوٹھا پیتے، اور میں حائضہ ہوتی۔

سنن نسائی حدیث ۲۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ وہ حائضہ ہوتیں اور پانی پیتیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ اپنا منہ رکھ کر پانی پیتے جہاں سے انہوں نے پیا تھا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حائضہ عورت کا جوٹھا ناپاک نہیں۔ حدیث کا اصل پیغام طہارت، گھر کے حسن سلوک اور بیوی کے ساتھ محبت بھرے برتاؤ سے جڑا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل سے بتایا کہ حیض عورت کو گھر والوں سے الگ کرنے یا اس کے برتن کو ناپاک سمجھنے کی وجہ نہیں۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے بہت اہم ہے جو حیض کے احکام، حائضہ عورت کا جوٹھا، اور حیض میں پاکی کے مسائل تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حائضہ عورت کا بچا ہوا پانی پینا جائز ہے، جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوا۔
  • حیض کی حالت عورت کو عام گھریلو تعلقات سے الگ نہیں کرتی۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ گھر میں محبت اور نرمی سکھاتا ہے۔
  • طہارت کے مسئلے میں وہی بات معتبر ہے جو حدیث سے ثابت ہو۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں