سنن نسائی حدیث ۲۸۲ - حائضہ کے برتن سے پینا

حیض میں برتن سے پینے کا نبوی طریقہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۸۲

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُنَاوِلُنِي الْإِنَاءَ فَأَشْرَبُ مِنْهُ وَأَنَا حَائِضٌ ، ثُمَّ أُعْطِيهِ فَيَتَحَرَّى مَوْضِعَ فَمِي فَيَضَعُهُ عَلَى فِيهِ " .

شریح روایت:

میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پانی کا برتن دیتے، میں اس میں سے پیتی، اور میں حائضہ ہوتی تھی، پھر میں آپ کو دیتی، آپ میرے منہ رکھنے کی جگہ تلاش کرتے، اور اپنا منہ اسی جگہ رکھتے۔

سنن نسائی حدیث ۲۸۲ کا خلاصہ

اس روایت میں شریح رحمہ اللہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پانی کا برتن دیتے۔ وہ حائضہ ہونے کے باوجود اس میں سے پیتیں، پھر برتن آپ کو دیتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے منہ رکھنے کی جگہ تلاش کرتے اور اسی جگہ اپنا منہ رکھتے۔ یہ حدیث حائضہ عورت کے برتن، حائضہ کا جوٹھا اور حیض میں طہارت کے بارے میں بہت واضح تعلیم دیتی ہے۔ اس میں نفرت یا دوری نہیں، بلکہ عزت، محبت اور پاکیزہ گھر کا نمونہ ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حیض ایک فطری حالت ہے، اس کی وجہ سے عورت کے ہاتھ، منہ یا استعمال شدہ برتن کو ناپاک نہیں سمجھا جاتا، جب تک کوئی حقیقی نجاست موجود نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حائضہ عورت کے برتن سے پینا حدیث سے ثابت ہے۔
  • گھر میں بیوی کے ساتھ نرم اور محبت والا رویہ رکھنا سنت ہے۔
  • حیض کی حالت عورت کو ناپاک انسان نہیں بناتی۔
  • دینی مسئلے میں غلط وہم کے بجائے حدیث کی رہنمائی اختیار کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں