سنن نسائی حدیث ۲۸۳ - حیض میں کھانا پینا
حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۸۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۸۳
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قال : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قال : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قالت : كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ ، وَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ ، وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ وَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ " .
عائشہ روایت:
میں (پانی) پیتی اور میں حائضہ ہوتی، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی، تو آپ اپنا منہ میرے منہ رکھنے کی جگہ پر رکھ کر پیتے، اور میں ہڈی سے گوشت (نوچ کر) کھاتی، اور حائضہ ہوتی، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ رکھنے کی جگہ پر رکھتے۔
سنن نسائی حدیث ۲۸۳ کا خلاصہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ حائضہ ہوتیں، پانی پیتیں اور برتن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتیں، تو آپ اپنا منہ اسی جگہ رکھتے جہاں انہوں نے منہ رکھا تھا۔ وہ ہڈی سے گوشت کھاتیں اور پھر وہی ہڈی آپ کو دیتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی جگہ منہ رکھتے۔ اس حدیث کا مرکزی مضمون حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ حیض کی حالت میں بیوی کے ساتھ عام گھریلو تعلق، کھانا اور پینا باقی رہتا ہے۔ اس میں محبت بھی ہے، طہارت کی سمجھ بھی ہے، اور غلط دوری سے بچنے کی تعلیم بھی ہے۔ حائضہ عورت کا جوٹھا، حیض میں کھانا پینا، اور بیوی کے ساتھ حسن سلوک اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے، جیسا کہ روایت میں آیا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیوی کے ساتھ محبت بھرے انداز میں پیش آتے تھے۔
- حیض کی وجہ سے عورت کے برتن یا کھانے کو ناپاک نہیں کہا جا سکتا۔
- دین فطری حالتوں میں آسانی اور پاکیزہ رہنمائی دیتا ہے۔
