سنن نسائی حدیث ۲۹۲ - نفاس میں احرام
نفاس میں غسل کر کے احرام باندھنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۹۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۲
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، قال : أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ أَصْنَعُ ؟ قَالَ : " اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي ثُمَّ أَهِلِّي " .
محمد روایت:
ہم لوگ جابر بن عبداللہ کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج (حجۃ الوداع) کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس ذی قعدہ کو نکلے ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابوبکر کو جنا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیج کر دریافت کیا کہ اب میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غسل کر لو اور لنگوٹ کس لو، پھر لبیک پکارو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۲ کا خلاصہ
محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں پوچھا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس ذی قعدہ کو نکلے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابوبکر کو جنا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ اب میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غسل کر لو، لنگوٹ کس لو، پھر لبیک پکارو۔ اس حدیث کا موضوع نفاس میں احرام ہے۔ روایت میں نفاس والی عورت کے لیے حج کے سفر میں رکنے کا نہیں، بلکہ غسل، احتیاطی کپڑا باندھنے اور احرام کی نیت کے ساتھ لبیک کہنے کا بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفاس والی عورت کے لیے غسل اور احتیاطی کپڑا باندھنے کا حکم آیا۔
- حج کے موقع پر مسئلہ پیش آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لی گئی۔
- نفاس کے باوجود لبیک کہنے کا حکم اس روایت میں موجود ہے۔
- عبادت میں پاکیزگی اور احتیاط دونوں کا خیال رکھا گیا۔
