سنن نسائی حدیث ۲۹۳ - حیض کا خون کپڑے پر
کپڑے سے حیض کا خون صاف کرنے کا طریقہ
سنن نسائی : ۲۹۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۳
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو الْمِقْدَامِ ثَابِتٌ الْحَدَّادُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ ، قال : سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ ، قَالَ : " حُكِّيهِ بِضِلَعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ " .
ام قیس بنت محصن روایت:
´ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کا خون کپڑے میں لگ جانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لکڑی سے کھرچ دو، اور پانی اور بیر کے پتے سے دھو لو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۳ کا خلاصہ
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لکڑی سے کھرچ دو، اور پانی اور بیر کے پتے سے دھو لو۔ یہ حدیث کپڑے پر حیض کا خون لگنے کے مسئلے میں صاف ہدایت دیتی ہے۔ یہاں تین باتیں بیان ہوئیں: پہلے کھرچنا، پھر پانی استعمال کرنا، اور بیر کے پتوں سے دھونا۔ اس روایت میں پورے کپڑے کو ناپاک کہنے یا کپڑا پھینکنے کا ذکر نہیں، بلکہ صفائی کا عملی طریقہ بتایا گیا ہے۔ حیض کا خون کپڑے پر، حیض کے کپڑے کی صفائی، اور نماز کے لباس کی پاکی جیسے سوالات کے لیے یہ حدیث بہت مفید ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کا خون کپڑے پر لگے تو اسے کھرچنے کا حکم آیا ہے۔
- پانی اور بیر کے پتے سے دھونے کا طریقہ روایت میں بیان ہوا۔
- مسئلہ پوچھنا اور صحیح رہنمائی لینا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- نجاست کی صفائی میں عملی اور صاف طریقہ اپنانا چاہیے۔
