سنن نسائی حدیث ۲۹۴ - حیض کا داغ دھونا
حیض کا داغ دھو کر اسی کپڑے میں نماز
سنن نسائی : ۲۹۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۴
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَتْ تَكُونُ فِي حَجْرِهَا ، أَنَّ امْرَأَةً اسْتَفْتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ ، فَقَالَ : " حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ انْضَحِيهِ وَصَلِّي فِيهِ " .
اسماء بنت ابوبکر روایت:
ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھرچ دو، پھر پانی ڈال کر انگلیوں سے رگڑو، پھر اسے دھو لو، اور اس میں نماز پڑھ لو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۴ کا خلاصہ
فاطمہ بنت منذر رحمہا اللہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کپڑے میں حیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھرچ دو، پھر پانی ڈال کر انگلیوں سے رگڑو، پھر اسے دھو لو، اور اس میں نماز پڑھ لو۔ یہ حدیث حیض کے داغ کی صفائی اور نماز کے کپڑے کی پاکی کے بارے میں واضح رہنمائی دیتی ہے۔ روایت میں ترتیب کے ساتھ صفائی کا طریقہ آیا ہے: کھرچنا، پانی کے ساتھ رگڑنا، دھونا، پھر اسی کپڑے میں نماز پڑھنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داغ یا خون لگنے پر صفائی کی جائے، اور جب کپڑا دھو لیا جائے تو اس میں نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کا خون لگے تو پہلے کھرچنے کا ذکر حدیث میں ہے۔
- پانی سے رگڑ کر دھونا صفائی کا بیان کردہ طریقہ ہے۔
- دھونے کے بعد اسی کپڑے میں نماز پڑھنے کا حکم آیا ہے۔
- صفائی کے مسئلے میں سادہ اور عملی طریقہ اپنانا چاہیے۔
