سنن نسائی حدیث ۲۹۵ - ناپاکی نہ ہو تو نماز

کپڑے میں گندگی نہ ہو تو نماز کا حکم

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۵

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي كَانَ يُجَامِعُ فِيهِ ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ ، إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى " .

معاویہ بن ابوسفیان روایت:

´معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے (اپنی بہن) ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں جماع کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں! جب آپ اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے۔

سنن نسائی حدیث ۲۹۵ کا خلاصہ

معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں جماع کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، جب آپ اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع کپڑے کی پاکی اور نماز ہے۔ روایت میں صاف طور پر کپڑے کے بارے میں پوچھا گیا اور جواب میں شرط بیان ہوئی کہ اگر اس میں کوئی گندگی نہ دیکھی جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نماز پڑھتے تھے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نماز کے کپڑے کے بارے میں اصل توجہ ظاہر ناپاکی پر ہے۔ اگر کپڑے میں اذیت یا نجاست نظر نہ آئے تو اس روایت کے مطابق اس میں نماز کا عمل ثابت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے کپڑے میں گندگی نہ ہو تو اس میں نماز پڑھنے کا ذکر آیا ہے۔
  • کپڑے کے بارے میں فیصلہ ظاہر حالت کو دیکھ کر کیا گیا۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم دینی مسئلہ گھر والوں سے بھی پوچھتے تھے۔
  • غیر ضروری شک کے بجائے واضح گندگی کو دیکھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں