سنن نسائی حدیث ۲۹۸۳ - وادی میں دوڑ کر سعی کرنا
سعی میں وادی کا حصہ دوڑ کر پار کرنا
سنن نسائی : ۲۹۸۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۸۳
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ امْرَأَةٍ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ ، وَيَقُولُ : " لَا يُقْطَعُ الْوَادِي إِلَّا شَدًّا " .
صفیہ بنت شیبہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”یہ وادی دوڑ کر ہی پار کی جائے گی“ ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں صفا و مروہ کی سعی کے دوران ایک خاص جگہ کا عمل بتایا گیا ہے۔ روایت کرنے والی خاتون کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے نشیبی حصے میں دوڑتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہ وادی دوڑ کر ہی پار کی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعی میں ہر جگہ ایک جیسی رفتار نہیں تھی، بلکہ وادی کے نشیب میں تیز چلنا یا دوڑنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔ اس موضوع کا مرکزی لفظ سعی میں دوڑنا ہے، جبکہ صفا مروہ کی سعی، وادی میں رمل، حج کی سعی اور عمرہ کی سعی بھی اسی سے متعلق ہیں۔ حدیث میں صرف وادی کے حصے کی بات ہے، اس لیے اس حکم کو پوری سعی پر پھیلانا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سعی میں وادی کے نشیبی حصے کو دوڑ کر پار کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- عبادت کے طریقے میں جگہ اور حالت کا فرق بھی معتبر ہو سکتا ہے۔
- صحابہ اور تابعین نے حج کے چھوٹے اعمال بھی محفوظ کیے۔
- حدیث سے وہی بات لی جائے جو متن میں صاف بیان ہوئی ہو۔
