سنن نسائی حدیث ۳۰۰۲ - عرفات میں تلبیہ اور تکبیر
عرفات میں تلبیہ اور تکبیر کا مسنون ذکر
سنن نسائی : ۳۰۰۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۰۲
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَرَفَاتٍ ، فَمِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات کی طرف چلے، ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے، اور کچھ تکبیر کہہ رہے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عرفات جاتے وقت تلبیہ اور تکبیر ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ صحابہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ عرفات کی طرف روانہ ہوئے۔ اس سفر میں سب کا ایک ہی لفظی طریقہ نہیں تھا؛ کچھ لوگ لبیک اللہم لبیک یعنی تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ لوگ اللہ اکبر کہہ کر تکبیر کہہ رہے تھے۔ حدیث سے یہ بات صاف سمجھ آتی ہے کہ یوم عرفہ کے سفر میں اللہ کا ذکر نمایاں تھا۔ یہاں نہ کسی بحث کا ذکر ہے، نہ ایک دوسرے پر اعتراض کا۔ اس لیے عرفات جاتے ہوئے تلبیہ کی حدیث اور تکبیر کی حدیث دونوں ایک ہی ماحول کو دکھاتی ہیں: حاجی اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے اور زبان کو ذکر سے آباد رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عرفات کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ کہنا ثابت ہے۔
- اسی سفر میں بعض صحابہ تکبیر بھی کہہ رہے تھے۔
- حج کے سفر میں اللہ کا ذکر نمایاں رہنا چاہیے۔
- حدیث میں مختلف جائز اذکار کے ساتھ چلنے کا ذکر ملتا ہے۔
