سنن نسائی حدیث ۳۰۰۴ - عرفہ کی صبح تلبیہ کا عمل
عرفہ کی صبح تلبیہ اور تکبیر کا طریقہ
سنن نسائی : ۳۰۰۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۰۴
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ فِي هَذَا الْيَوْمِ ؟ قَالَ : " سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَكَانَ مِنْهُمُ الْمُهِلُّ وَمِنْهُمُ الْمُكَبِّرُ ، فَلَا يُنْكِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى صَاحِبِهِ " .
´محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ` میں نے عرفہ کی صبح انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آج کے دن تلبیہ پکارنے کے سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ مسافت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ طے کی ہے، ان میں سے بعض لوگ تلبیہ پکارتے تھے، اور بعض تکبیر پکارتے تھے تو ان میں سے کوئی اپنے ساتھی پر نکیر نہیں کرتا تھا۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عرفہ کی صبح کا عمل بتایا گیا ہے۔ محمد بن ابی بکر ثقفی نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آج کے دن تلبیہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے یہ سفر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور آپ کے صحابہ کے ساتھ کیا ہے۔ ان میں کچھ لوگ تلبیہ کہتے تھے اور کچھ تکبیر کہتے تھے، مگر کوئی اپنے ساتھی پر نکیر نہیں کرتا تھا۔ اس روایت میں یوم عرفہ تلبیہ، عرفات کی تکبیر، اور حج میں ذکر کا مزاج ایک ساتھ سامنے آتا ہے۔ حدیث کا انداز بہت واضح ہے: اصل مقصد اللہ کا ذکر ہے، نہ کہ ایسے معاملے میں ایک دوسرے پر سختی کرنا جس میں صحابہ کے درمیان وسعت موجود تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عرفہ کی صبح تلبیہ کہنا ثابت ہے۔
- اسی وقت بعض صحابہ تکبیر بھی کہتے تھے۔
- صحابہ ایک دوسرے پر اس معاملے میں نکیر نہیں کرتے تھے۔
- حج میں ذکر کے ساتھ نرمی اور وسعت کا پہلو بھی دکھائی دیتا ہے۔
