سنن نسائی حدیث ۳۰۵۳ - اندھیرے میں منیٰ آنا
آخر رات کے اندھیرے میں منیٰ آنے کی حدیث
سنن نسائی : ۳۰۵۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۵۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " جِئْتُ مَعَ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ مِنًى بِغَلَسٍ ، فَقُلْتُ لَهَا : لَقَدْ جِئْنَا مِنًى بِغَلَسٍ ، فَقَالَتْ : قَدْ كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ " .
´اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کے ایک غلام کہتے ہیں کہ` میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے ساتھ اخیر رات کے اندھیرے میں منیٰ آیا۔ میں نے ان سے کہا: ہم رات کی تاریکی ہی میں منیٰ آ گئے (حالانکہ دن میں آنا چاہیئے)، تو انہوں نے کہا: ہم اس ذات کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے (یعنی غلس میں آتے تھے) جو تم سے بہتر تھے۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے غلام کا واقعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اسماء رضی اللہ عنہا کے ساتھ آخر رات کے اندھیرے میں منیٰ آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم رات کی تاریکی ہی میں منیٰ آ گئے۔ اس پر اسماء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ہم اس ذات کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے جو تم سے بہتر تھے۔ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہ روایت منیٰ کی طرف غلس میں آنے، حج کے سفر کی عملی ترتیب اور صحابہ کے اتباع سنت کو بیان کرتی ہے۔ الفاظ مختصر ہیں، مگر عمل کی نسبت بہت واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسماء رضی اللہ عنہا نے غلس میں منیٰ آنے کا عمل بیان کیا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے حج کے عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے جوڑتے تھے۔
- حج کے اعمال میں وقت کی عملی تفصیل صحابہ کے عمل سے معلوم ہوتی ہے۔
- سوال کے جواب میں اسماء رضی اللہ عنہا نے مختصر مگر واضح رہنمائی دی۔
